قربانی کا بکرا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ مجازا ]  اس شخص کو کہتے ہیں جسے کوئی شخص ذاتی فائدے کے لیے اپنا آلۂ کار بنا کے خود فائدے میں رہے اور جس کو آلہ کار بنائے وہ نقصان اٹھائے۔ "ایک بے گناہ ساتھی کو عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانی کا بکرا بنانا انصاف کا خون ہو گا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٠٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قربانی' کے ساتھ 'کا' بطور حرف اضافت لگانے کے بعد سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بکرا' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٥٣ء، میں "سموم و صبا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ مجازا ]  اس شخص کو کہتے ہیں جسے کوئی شخص ذاتی فائدے کے لیے اپنا آلۂ کار بنا کے خود فائدے میں رہے اور جس کو آلہ کار بنائے وہ نقصان اٹھائے۔ "ایک بے گناہ ساتھی کو عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانی کا بکرا بنانا انصاف کا خون ہو گا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٠٩ )

جنس: مذکر